کوئٹہ، شمسی توانائی سے مربوط بچے سولر کڈز عام زندگی کی جانب لوٹنا شروع
کوئٹہ میں گاوُں میاں گھندی کے نزدیک دو بھائی ایسے ہیں جنکی حرکت سورج کی روشنی سے "مربوط "ہے ۔یہ بچے دن کے وقت "نارمل "رہتے ہیں اور ہر کام کرتے ہیں لیکن جیسے جیسے سورج غروب ہونے لگتا ہے یہ بچے "معذور "ہوجاتے ہیں ۔
ڈاکٹر طاہر انیس نے اس بیماری کو "فیمیلیل پریوڈک پیرالئیز"کا نام دیا ہے جسکی بڑی وجہ خاندان میں "شادی "ہے ان بچوں کو علاج کے لئے اسلام آباد لے جایا گیا جہاں پمز ہسپتال کے ڈاکٹر جاوید اکرم نے سر توڑ کو شیشں کی یہ بچے صحتیاب ہو سکیں تاہم کچھ عرصے علاج کے بعد انھیں کوئٹہ واپس لے آیا گیا ہے بچوں کے والد محمد ہاشم کے مطابق علاج سے قبل بچے سورج غروب ہوتے ہی مکمل طور پر "بیہوشی "کے عالم میں چلے جاتے تھے لیکن علاج کے بعد انکی حالت پہلے سے "بہتر "ہے تاہم وہ ابھی پوری طرح صحتیاب نہیں ہوئے ہیں دوائی کھاتے ہیں تو "ٹھیک "رہتے ہیں لیکن اگر دوائی میں "ناغہ "ہو پھر معزوری کی "کیفیت "ہو جاتی ہے۔
محمد ہاشم نےحکومت پاکستان اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سے "اپیل " کی ہے کہ ان بچوں کے علاج اور اخراجات کی "ذمہ داری "لی جائے ۔میں ایک غریب کسان ہوں اور یہ اخراجات "برداشت "نہیں کر پا رہا ۔انکا مذید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے بچوں کے لئے کوئی "وظیفہ "مقرر کیا جائے تاکہ بچوں کو کم از کم دوائی وقت پر مل سکے۔