Feb 22, 2020 03:15 pm
views : 222
Location : Supreme Court of Pakistan
Islamabad- Justice Faez Isa accuses PM Imran, politicians of establishing offshore companies
اسلام آباد، جسٹس قاضی فائز کا وزیراعظم اور دیگر سیاستدانوں پر "آف شور کمپنیاں "بنانے کا الزام
سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے "جواب الجواب "جمع کروایا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی جائیدادیں اہلیہ اور بچوں نے اپنے نام پر خریدیں، اہلیہ اور بچوں نے برطانیہ کی جائیداد کو آف شور کمپنیوں کے ذریعے کبھی نہیں "چھپایا"، حکومت نے میری فیملی کی "مخبری "کیلئے برطانیہ میں "نجی کمپنی "کی خدمات حاصل کی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے جواب میں کہا کہ وزیر اعظم نے خود اپنی اہلیہ اور بچوں کے اثاثہ "ظاہر "نہیں کیے، کئی نمایاں شخصیات نے آف شور کمپنیوں کے ذریعے "غیر ملکی جائیداد "کو چھپاپا، موجودہ وزیراعظم بھی ان نمایاں شخصیات میں شامل ہیں جبکہ سپریم کورٹ توہین عدالت مقدمہ میں سابق وزیر اعظم کو "سزا "دے چکی ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں میری ذات پر "الزامات "لگائیں گئے، وہ الزامات غلط ثابت ہونے پر "توہین عدالت "کی کاروائی ہو سکتی ہے، فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس کی تیاری سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان لا علم نہیں جبکہ اثاثہ ریکوری یونٹ قانونی باڈی نہیں، اثاثہ جات ریکوری یونٹ کا کسی قانون،وفاقی حکومت کے رولز،سرکاری گزٹ میں "ذکر "نہیں ہے۔