راولپنڈی، دہشتگردی کے خلاف آپریشنردالفساد کو3 سال مکمل
دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسزاورعوام کی مشترکہ جدوجہد کے "آپریشن ردالفساد "کو3 سال "مکمل "ہوگئے۔ ملک بھرمیں آپریشن ردالفساد کے تحت "ایک لاکھ 49 ہزار "سے زائد انٹیلی جینس آپریشنزکیے گئے۔
آپریشن ردالفساد کے تحت 22 فروری 2017 سے 2020ء تک کل 3 ہزار 800 سے زائد خطرات کے انتباہ جاری ہوئے، سیکیورٹی فورسز، انٹیلی جینس اداروں نے دہشتگردوں کے 400 سے زائد مذموم منصوبے ناکام بنائے، فوجی عدالتوں نے 344 دہشتگردوں کو سزائے موت دی ، 301 کو مختلف دورانیے کی سزائیں جبکہ 5 کو بری کیا گیا۔
پاک، افغان سرحد پر 2611 کلومیٹر میں سے 1450 کلومیٹر پر باڑ کی تنصیب مکمل کر لی گئی ہے، سرحدی باڑ کے ساتھ 843 حفاظتی قلعوں میں سے 343 مکمل، 161 زیر تعمیرہیں ۔ دوسری جانب بھارتی قابض فورسز 2017 سے فائر بندی کی 8 ہزار سے زائد خلاف ورزیاں کرچکیں۔
پاکستان میں کھیل، سیاحت، غیرملکی سیاح، کھلاڑی سب "واپس "آنے لگے، پاکستان میں بدھ مت، ہندو، سکھ مذاہب کے پیروکاروں کی جوق درجوق آمد بھی "امن "کا "پیام "ہے، کبڈی ورلڈ کپ، سری لنکا، بنگلہ دیش کرکٹ ٹیموں کی آمد نے ثابت کیا کہ پاکستان "امن "کا دیس ہے۔
ملک میں آپریشن ردالفساد کی بدولت طویل عرصہ کے بعد پاکستان سپر لیگ کا انعقاد ہوا، عالمی سطح پر انسداد دہشتگردی کی جنگ میں پاکستانی کاوشوں اورکامیابیوں کوسراہا گیا، امریکا، برطانیہ نے اپنے شہریوں کیلئے پاکستان کو "محفوظ "قراردیا اورسفری "انتباہ "نرم کردیا۔
انسداد دہشتگردی کی جنگ سے متعلق 2001 سے 2020 تک صرف کراچی میں 350 سے زائد بڑے، 850 سے زائد معمول کے آپریشنز ہوئے جس کے بعد جرائم کی عالمی درجہ بندی میں 6 سے 91 ویں نمبر پرآگیا۔