Feb 25, 2020 07:44 pm
views : 240
Location : Different Places
Islamabad- IHC grants bail to PML-N leaders Shahid Khaqan Abbasi, Ahsan Iqbal
اسلام آباد ہائیکورٹ، احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کی "ضمانت "منظور
اسلام آباد ہائیکورٹ میں نارووال سپورٹس کمپلیکس کیس میں احسن اقبال اور ایل این جی کیس میں شاہد خاقان عباسی کی "درخواست ضمانت "پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے کہا سپریم کورٹ کہتی ہے کہ آپ تفتیش ضرور کریں لیکن "سزا نہیں "دے سکتے، بین الاقوامی سطح پر دہشتگردی جیسے ملزم کی آزادی کو بھی "سلب "نہیں کیا جاتا، برطانیہ نے مشتبہ شخص پر 12 شرائط عائد کیں لیکن آزادی سے "محروم "نہیں کیا، نیب تفتیشی افسر بھی کسی ملزم پر "30 شرائط "لگاسکتا ہے۔
عدالت نے استفسار کیا احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کو گرفتار "کیوں "کیا گیا ؟ تفتیش مکمل ہے تو احسن اقبال اور شاہد خاقان کو مزید جیل میں "کیوں "رکھا جائے ؟ احسن اقبال، شاہد خاقان کو "ووٹ "ملے، انہیں نمائندگی سے کیسے
"محروم "کیا جاسکتا ہے ؟ جن ووٹرز نے احسن اقبال، شاہد خاقان کو ووٹ دیا ان کو کس بات کی "سزا "ہے ؟۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ آپ کسی کو غیر ضروری "گرفتار "نہیں کر سکتے، غیر ضروری گرفتاری دراصل اختیارات کا "غلط "استعمال ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چودھری نے کہاہے کہ حکومت اپوزیشن کیخلاف "سازش "کررہی ہے،اپوزیشن کےخلاف تمام مقدمات "جھوٹے "ثابت ہوئے،انہوں نے کہاکہ عالمی ادارے بھی حکومت کی "انتقامی سیاست "کی بات کررہے ہیں، یہ پاکستان کے اداروں کیلئے "لمحہ فکریہ "ہے۔
طارق فضل چودھری کا مزید کہناتھا کہ حکومت میں موجود کئی لوگوں پر "مقدمات "درج ہیں ،حکومتی ارکان کیخلاف کوئی "کارروائی "نہیں کی جا رہی ،انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت کے نوازشریف سے متعلق فیصلے کی "مذمت "کرتے ہیں ،نوازشریف کا علاج چل رہا ہے ڈاکٹروں کی ہدایت پرہی "سفر "کریں گے،انہوں نے کہاکہ حکومت "عملی طور "پر ناکام ہو چکی ہے،شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کی رہائی کل دوپہر کے بعد ہوگی۔