کراچی، وزیراعلیٰ سندھ کا کورونا وائرس متاثرین کیلئے "اسپتال مختص "کرنے کا اعلان
کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ نجی اسپتال میں کورونا وائرس کا "ایک کیس " سامنے آیا، متاثرہ شخص کےاہلخانہ کو "قرنطینہ "میں رکھا گیاہے۔ ایران سےآنے والے "1500 افراد "کا ڈیٹا جمع کرلیا ہے ۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کمشنر آفس میں کنٹرول روم بھی قائم کردیا گیا ہے، ماسک کی کمی پورا کرنے کیلئے "ویئر ہاؤسز" سے رابطہ کریں گے اور ماسک کی اصل قیمت پر فروخت کو "یقینی "بنائیں گے جبکہ "مہنگا ماسک "بیچنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ایک اسپتال کورونا وائرس کے متاثرین کے لیے "مختص "کررہے ہیں، کورونا سے متعلق اسپتال میں آلات و ڈاکٹرز اسپیشل ہوں گے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے کورونا وائرس سے متعلق ایک بھی میٹنگ میں نہیں بلایا، وفاقی حکومت پارٹی بنیادوں پر نہیں بلکہ قومی معاملہ سمجھ کر سوچے تاہم اگر وفاقی حکومت کو کوئی "مدد "درکار ہے تو ہم مدد کے لیے "تیار "ہیں۔
ائیرپورٹ حکام نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کی جس میں وزیراعلیٰ نے ائیرپورٹ پر "اسکریننگ "عمل سمیت ایران اور چین سے آنے والی پروازوں کے حوالے سے اقدامات پر سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام سے "معلومات "لیں۔ ائیرپورٹ حکام نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ ائیرپورٹ پر "آئسولیشن رومز "قائم کیے ہیں جب کہ اسکریننگ کا عمل بھی جاری ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ائیرپورٹ حکام کو اسکریننگ کے عمل کو "سخت "کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک سے کراچی آنے والی پروازوں کی سخت "مانیٹرنگ "اور مسافروں کی "اسکریننگ "کی جائے۔
دوسری طرف کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں "فیس ماسک نایاب "ہوگئے اور قیمتوں میں ہوشربا "اضافہ "ہوگیا۔