Mar 02, 2020 08:50 pm
views : 229
Location : Different Places
Karachi- Corona virus threatened, Sindh educational institutions announced to be "closed" until March 13
کراچی، کورونا وائرس کا خطرہ، سندھ بھر کے تعلیمی ادارے "13 مارچ "تک "بند "رکھنے کا اعلان
وزیراعلی سید مراد علی شاہ نے کورونا وائرس سے متعلق ٹاسک فورس کے چوتھے اجلاس کی صدارت کی جس میں چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ، صوبائی وزرا ڈاکٹر عذرا پیچوہو، سعید غنی، ناصر حسین شاہ، مشیر قانون مرتضی وہاب و دیگر نے شرکت کی۔
اجلاس میں "13 مارچ "تک سندھ بھر کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے "بند "رکھنے کا فیصلہ کیاگیا تاکہ مشتبہ افراد کی آئسولیشن کی "مدت "مکمل ہوسکے۔
وزیراعلیٰ نے ٹاسک فورس کے اراکین بالخصوص ڈاکٹروں سے مشاورت کے بعد "13 مارچ "تک تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ "حفاظتی انتظامات "کے پیش نظر تمام کوچنگ سینٹرز، ٹیوشن سینٹرز بھی "13 مارچ "تک بند رکھے جائیں، تعلیمی اداروں کی بندش سے مشکوک افراد جنھیں آئسولیشن میں رکھا گیا ہے ان کے "قرنطینہ "کی مدت مکمل کرنے میں مدد ملے گی۔
تعطیلات کا فیصلہ اساتذہ اور غیر تدریسی عملے پر بھی "لاگو "ہوگا جبکہ ایسے تعلیمی ادارے جہاں شام کے اوقات میں کوچنگ سینیٹرز موجود ہیں وہاں بھی "13 مارچ "تک تعطیلات ہوں گی۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز کراچی اور اسلام آباد میں مزید 2 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 4 ہوگئی ہے۔
ایک شہری جاوید علی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تعطیلات کے فیصلے کو تعلیم میں حرج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسکولوں کی بندش سے بچوں کی تعلیم متاثر ہوگی۔
ایک اور شہری شکیل احمد کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ٹھیک فیصلہ کیا گیا ہے صحت اچھی ہوگی تو تعلیم بھی حاصل کرسکیں گے۔
ادھر پشاور ہائیکورٹ نے ملازمین کو کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے "ہدایات "جاری کر دیں۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ بخار یا کھانسی کا شکار ملازمین "ماسک پہن "کر آئیں اور ملازمین کی بائیو میٹرک حاضری عارضی طور پر "روک "دی جائے۔
رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملازمین روایتی طریقے سے "بغلگیر ہونے "اور "ہاتھ ملانے "سے "گریز "کریں۔
ہائیکورٹ کے اعلامیے میں باتھ رومز میں کپڑوں کے "تولیے "کے بجائے "ٹشو پیپر "استعمال کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کے ملازمین کو صابن سے ہاتھ دھونے کی "ہدایات "جاری کی گئی ہے اور رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری ہدایات نامہ عدالت کے مرکزی دروازے پر "آویزاں "کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس چین سے سامنے آنے والا کورونا وائرس اب تک پاکستان سمیت دنیا کے "60 ممالک "میں پھیل چکا ہے اور اس موذی وبا سے "3 ہزار "سے زائد "اموات "واقع ہو چکی ہیں۔
پاکستان میں بھی "4 افراد "میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں سے دو کراچی اور دو اسلام آباد میں زیر علاج ہیں۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت پاکستان نے ایران اور افغانستان سے ملحقہ سرحدوں پر آمدورفت معطل کر دی ہے اور ایران اور افغانستان سے آنے والے افراد کو قرنطینہ میں رکھنے کے بعد گھروں کو بھیجا جا رہا ہے۔