اسلام آباد، پاکستان میں کورونا وائرس کا "پانچواں "کیس سامنے آگیا، ڈاکٹر ظفر مرزا
ڈاکٹر ظفر مرزا نے ٹویٹ کرتے ہوئے ملک میں آنے والے "پانچویں "کورونا وائرس کی تصدیق کی ہے۔ گلگت سے تعلق رکھنے والی پینتالیس سالہ خاتون میں کورونا وائرس کی "تصدیق "ہوئی ہے۔ قومی ادارہ صحت بھیجے گئے ٹیسٹ میں خاتون میں کورونا وائرس "پایا "گیا ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ خاتون مریضہ "پمز اسپتال "میں داخل ہے، تاہم مریضہ کی حالت "خطرے "سے باہر ہے اور اس کا وفاق میں "بہترین علاج "ہو رہا ہے۔
اس سے قبل ملک میں کورونا وائرس کے "چار" کیسز سامنے آچکے ہیں۔ پاکستان میں 26 فروری کو تصدیق ہونے والے کورونا وائرس کے "دو "کیسز میں ایک کراچی اور دوسرا اسلام آباد میں سامنے آیا تھا۔ جبکہ 29 فروری کوڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید دو کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی تھی ان دونوں کیسز میں سے بھی ایک کیس کراچی میں اور دوسرا اسلام آباد میں سامنے آیاتھا۔
دوسری طرف این ڈی ایم اے نے کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے اسلام آباد میں "300 بستروں" پرمشتمل جدید کیورنٹائن سینٹر "قائم "کر دیا۔
ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق چین، ایران اور کورونا وائرس کے متاثرہ دیگر ممالک سے پاکستان آنے والے مسافروں کو "پندرہ روز "کیلئے اس عارضی قیام گاہ میں رکھا جائے گا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کوروانا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی "ایمرجنسی "کے پیش نظر کیورنٹائن سینٹر کا قیام ہنگامی بنیادوں پر ایک ہفتہ میں مکمل کیا گیا ہے۔
ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق اس عارضی قیام گاہ میں ڈسپینسری، کیفے ٹیریا اور دیگر تفریحی سہولیات چار دیواری کے اندر فراہم کی گئی ہیں۔ اس سینٹر کا قیام کوروانا وائرس سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے حفاظتی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے۔
ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ این ڈی ایم اے نے 20ملین روپے کی لاگت سے کورونا وائرس کے مریضوں کی شناخت کرنے والے 3 جدید اسکینرز بھی حاصل کیے ہیں جو مختلف ائیرپورٹس پر نصب کیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں کراچی میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد سندھ حکومت کے 13تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے 50 نجی اسکولز کی رجسٹریشن "معطل "کر دی گئی ہے۔