اسلام آباد، قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی "زینب الرٹ بل" منظور کر لیا گیا
قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی "زینب الرٹ بل" منظور کر لیا گیاہے۔
سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا، قائمہ کمیٹی سے ترامیم کے بعد منظور ہونے والے زینب الرٹ بل کو سینیٹ میں پیش کیا گیا جسے منظور کر لیا گیا,سینیٹ میں زینب الرٹ بل سینیٹر اعظم سواتی نے پیش کیا
سینیٹر جاوید عباسی نے زینب الرٹ بل پر "اعتراض "کیا،کہا زینب الرٹ بل پر کچھ "تحفظات "ہیں،بل پیش کرتے ہوئے وزیر برائے "انسانی حقوق" بھی موجود نہیں۔
سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ایسے درندوں کو" الٹا لٹکانا اور پھانسی" دینی چاہیے،ترامیم آتی رہیں گی بل کو منظور کروانا "ناگزیر" ہے۔
قائمہ کمیٹی انسانی حقوق نے قتل اورزیادتی کے مجرموں کے لیے 10سے14سال قید کی سزا تجویز کی،قائمہ کمیٹی کی رپورٹ میں جرمانہ کی سزا بھی ختم کردی گئی۔
بلاول بھٹو کی سربراہی میں قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے زینب الرٹ بل کو کافی عرصے تک طول دیا ,قائمہ کمیٹی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے 9 اکتوبر 2019 کو ’زینب الرٹ بل‘ کی منظوری دے دی تھی۔ کمیٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ یہ بل صرف اسلام آباد میں لاگو ہوگا۔ اسے ملک بھر میں نافذ کرنے کیلئے چاروں صوبائی اسمبلیوں کو بھی ’زینب الرٹ بل‘ پاس کرنا چاہیے تاکہ بچوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔