Mar 12, 2020 03:29 pm
views : 259
Location : Domestic Place
Karachi- ABAD against the contracting system, Mohsin Shekhani
کراچی، اٹھارہ اداروں سے این او سی لینے کے باوجود "قانونی عمارتیں گرائی "جا رہی ہیں، محسن شیخانی
آباد ہاؤس میں سیلانی انٹرنیشنل ویلفیئر ٹرسٹ کے چیئرمین مولانا بشیر احمد فاروقی کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن شیخانی کا کہنا تھا کہ تعمیراتی منصوبے کیلئے تمام "قانونی تقاضے "پورے کرکے عمارتیں تعمیر کرتے ہیں اس کے باوجود غیر قانونی قرار دے کر عمارتیں گراکر کراچی کے شہریوں کو بلڈرز اور ڈیولپرز کا "دشمن "بنایا جا رہا ہے، چیئرمین آباد نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں عدالت عظمیٰ نے کراچی میں غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی عمارتوں کو "گرانے "کے احکام جاری کیے ہیں جن میں آباد کے 4 اراکین کے "رائل آئیکون "سمیت دیگر منصوبے بھی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ "رائل آئیکون "سمیت دیگر منصوبے تعمیر کرنے سے قبل "پلان کی منظوری "سمیت تمام متعلقہ اداروں سے18این اوسیز حاصل کیے گئے تھے اس کے باوجود رائل آئیکون کو "مسمار 'کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں سیکڑوں الاٹیز کی جمع "پونچی لٹ "گئی ہے ۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اس طرح سے کراچی کے شہریوں کو بلڈرز اور ڈیولپرز کیخلاف کیا جارہا ہے۔
محسن شیخانی نے کہا کہ ہم وزیر اعظم،آرمی چیف،چیف جسٹس عدالت عظمیٰ سے اپیل کرتے ہیں کہ کراچی کے تعمیراتی شعبے کو "بچائیں "اور اگر یہی حالات رہے تو کراچی کے بلڈرز اور ڈیولپرز اپنا کاروبار "بند "کرنے پر مجبور ہوجائیں گے،چیئرمین آباد نے کہا کہ جلد پریس کانفرنس کرکے مستقبل کا "لائحہ عمل "طے کریں گے۔
حنیف گوہر کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے سب کو "جدوجہد "کرنی ہوگی، اعلیٰ افسران کرپٹ نہیں ہونگے تو یقینا غیر قانونی تعمیرات کا "سدباب "ہوگا۔ گزشتہ ہفتے جو کراچی میں عمارتیں گری ہیں وہ ٹھیکیداری نظام کے تحت بنی ہوئی تھیں۔