لاہور، نجی ٹی وی چینل کے مالک میر شکیل الرحمٰن گرفتار
نوازشریف کی جانب سے لاہورکی قیمتی ترین 54 کنال اراضی کا تحفہ دیئے جانے پر نیب نے میرشکیل کونیب آفس بلایا جہاں وہ سوالات کے جوابات نہ دے سکے جس پرنیب نے میر شکیل الرحمن کوگرفتارکرلیا ۔
ذرائع کے مطابق اس سے قبل میر شکیل 5 مارچ کو پہلی مرتبہ اس کیس میں پیش ہوئے تھے، اس پیشی کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ میر شکیل نے پہلی پیشی میں تین ملازم اور دو بچے نیب دفتر ساتھ لے جانے کی درخواست کی تھی تاہم ملازم ساتھ لانے کی درخواست مسترد کردی گئی تھی اور بچوں کو نیب دفتر میں داخلے کی اجازت دی گئی۔
میر شکیل سے استقبالیہ پر شناختی کارڈ لیا گیا اور اندراج رجسٹر پر دستخط کروائے گئے جس کے بعد انھیں کمرہ نمبر 2 میں لے جایا گیا جہاں اس سے قبل نواز شریف اور شہباز شریف سے بھی تفتیش ہو چکی ہے۔میر شکیل الرحٰمن سے متعدد مرتبہ سوال کیا گیا کہ آپ کے میاں نواز شریف سے کیا مراسم ہیں، اس وقت کے وزیر اعلیٰ میاں نواز شریف نے آپ کو غیر قانونی اراضی کیوں الاٹ کی؟
دوران تفتیش میر شکیل سے اراضی کے معاہدے کے دستاویزات طلب کی گئیں جو وہ پیش نہ کرسکے۔ اس وقت کے وزیر اعلٰی نےدرخواست کے بغیر الاٹمنٹ کی سمری ایل ڈی اے کو بھجوائی۔ میر شکیل نے اپنا محل مکمل کرنے کیلئے جوہر ٹاون کی دو گلیاں بھی گھرمیں شامل کیں۔