کراچی میں کورونا کا ایک اور کیس رپورٹ، ملک بھر میں تعداد "22 "ہوگئی
محکمہ صحت کے مطابق کراچی میں کورونا وائرس کا ایک اور کیس "رپورٹ "ہوا ہے، 52 سالہ شخص میں کورونا وائرس کی "تصدیق "ہوئی ہے جب کہ متاثرہ شخص 2 روز پہلے اسلام آباد سے "کراچی "پہنچا تھا۔
محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ نیا کیس سامنے آنے کے بعد کراچی میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد "15 "ہوگئی ہے جب کہ کورونا وائرس کے مبتلا 2 مریض "صحتیاب "بھی ہوچکے ہیں۔
واضح رہے کہ ملک بھر میں مجموعی طور پر کورونا مریضوں کی تعداد "22 "ہوگئی ہے جب کہ حکومت سندھ نے کورونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر تعلیمی ادارے "31 مئی "تک "بند "رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری طرف بلوچستان میں ایران سے آنے والے 1900 پاکستانی زائرین کو قرنطینہ کی 14 روز کی مدت پوری ہونے پر تفتان سے کوئٹہ روانہ کردیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر چاغی نے بتایا کہ پاکستان ہاوٴس میں مقیم1900 سے زائد زائرین کو لیویز اور ایف سی کی سخت سیکیورٹی میں تفتان سے کوئٹہ روانہ کردیا گیا۔ ان زائرین نے اپنے قرنطینہ کی 14 روزہ مدت پوری کرلی تھی۔ زائرین کے قافلے میں 50 سے زائد بسیں شامل ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنر تفتان کے مطابق ایران سے پاکستانی زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور مزید 227 زائرین تفتان پہنچ گئے ہیں۔ اب تک ایران سے آنے والے پاکستانیوں کی تعداد 6 ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔
ادھر چمن میں زیرو پوائنٹ پر پاک افغان باب دوستی بارویں روز بھی بند ہے۔ کسٹم حکام کے مطابق سرحد کی بندش کے باعث نہ صرف نیٹو سپلائی اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سمیت ہر قسم کی تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں، اس کے ساتھ ساتھ پیدل آمدورفت اور ایف آئی اے امیگریشن بھی بند ہے۔
قبل ازیں شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی کا بیان سامنے آیا تھا کہ تفتان قرنطینہ میں مدت پوری کرنے والے زائرین کو روکنا درست نہیں، ان کا کہنا تھا کہ ناقص انتظامات کے باعث صحت مند زائرین مسافروں کے بیمار پڑنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں، زائرین کے مسائل کے قابل قبول اور مناسب حل کے لئے روایتی انداز سے ہٹ کر سنجیدہ کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔