کراچی،حکومتی فیصلے کے بعد صدر کے معروف بازار "بند"،کرادی کی تاجر برادری کہتی ہے یومیہ 4 ارب روپے کا نقصان ہوگا
کورونا
وائرس کے خطرے کے پیش نظر صوبائی حکومت کی جانب سے دکانوں کی "بندش "کے
اعلان کے بعد صدر کے معروف بازاروں کی دکانیں "بند "پڑی ہوئی ہیں جس کے
باعث سڑکوں پر "سناٹا "چھاگیا ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر
رہی۔ روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والوں نے حکومتی فیصلے پر "شدید غم وغصے
کا اظہار "بھی کیا ہے۔
سندھ حکومت نے کمشنر کراچی کو دکانیں اور ریسٹورنٹس بند نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت بھی کردی ہے۔
کراچی
تاجر اتحاد نے کورونا وائرس کے باعث بازاروں کی بندش کے حکم کو مسترد کرتے
ہوئے کہا ہے کہ مارکیٹوں کی بندش سے یومیہ 4 ارب روپے کا نقصان ہوگا اور
غریب مزدور بھوکا رہ جائے گا۔سندھ حکومت کے تجارتی مراکز کی بندش کے فیصلے
سے تاجروں اور یومیہ اجرت کمانے والوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
اس
حوالے سے ایک شہری محمد نسیم کا کہنا تھا کہ حکومت نے یہ بہت اچھا اقدام
کیا ہے لیکن "غریب "عوام کیا کرے گی، وہ اگر پندرہ دن اپنے گھروں میں بیٹھے
گا تو اس کے بچوں کا کھانا پینا "کیسے "ہوگا، حکومت راشن وغیرہ کا
"بندوبست" کرے تاکہ غریبوں کو کوئی "مشکلات "کا سامنا نہ ہو۔
ایک
نوجوان ندیم ترین کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کے فیصلے سے ہم محفوظ رہ سکتے
ہیں تو یہ فیصلہ یقینا "بہتر "ہے۔ اگر ہمارے گھر بیٹھنے سے کورنا "ختم
"ہوجائے گا تو ٹھیک ہے، وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ "راشن وغیرہ "کی
مارکیٹیں تو کھلیں گی۔