کورونا وائرس سے افراتفری کا ماحول بنا تو بہت نقصان ہوگا، وزیراعظم
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے پاکستان میں ڈائریکٹر ڈاکٹر پالیتھا ماہی پالا نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی تاحال کوئی ویکسین اورمیڈیسن نہیں ہے۔عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر پالیتھا کا بریفنگ میں کہنا تھا کہ آج کی میٹنگ بہت اہم ہے اور ساتھ ہی کورونا وائرس کا معاملہ بھی بہت اہم ہے، یہ وائرس لوگوں میں تشویش پھیلا رہا ہے اور ادارے کی جانب سے مکمل ڈیٹا دیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں کورونا وائرس سے 2 لاکھ 98 ہزار 778 لوگ متاثر ہوئے جبکہ ساڑھے 8 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔
ڈاکٹر پالیتھا کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے علاج کے لیے 208 اسپتالوں کو رجسٹرڈ کیا گیا جبکہ پاکستان میں 13 لیبارٹریز کورونا سے متعلق کام کر رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں تاحال کورونا وائرس کی کوئی ویکسین اورمیڈیسن نہیں ہے اور مہلک وائرس کے خلاف دوسری ادویات سے مدد لی جارہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہمیں اس وقت انفرادی طور پر کردار ادا کرنا ہوگا اور مزید ایکشن لینے پڑیں گے جبکہ اس صورتحال میں صوبوں کے ساتھ روابط مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خدارا گھروں میں رہیں، عوام کو نہ صرف خود کو اپنے بچوں کو اور دوستوں کو بچانا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ لوکل ٹرانس میشن کے کیسز 51 ہوگئے ہیں، اصل پریشانی کی بات لوکل ٹرانس میشن کے بڑھتے کیسز ہیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خدارا گھروں میں رہیں، عوام کو نہ صرف خود کو اپنے بچوں کو اور دوستوں کو بچانا ہے۔