کورونا وائرس ملک کے بڑے شہروں میں کاروبار زندگی معطل
ملک میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے لاک ڈاؤن اور دیگر حکومتی اقدامات کے نتیجے میں کاروبار زندگی معطل ہوگیا اور عوام کی اکثریت گھروں تک محدود ہوکر رہ گئی۔
سرکاری احکامات پر عمل درآمد کے لیے کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک بھر میں مارکیٹیں بند ہیں اور تفریحی و تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں۔ تمام شہروں میں چھوٹے بڑے بازار، شاپنگ مالز، تفریحی گاہیں اور پارکس بند ہیں جبکہ ساحلی مقامات جانے پر پابندی ہے۔
احتیاطی اقدامات کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند ہے جس کے باعث سڑکوں سے ٹریفک مکمل غائب ہے اور شاہراہوں پر سناٹے کا راج ہے جس کے نتیجے میں شہری گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔
مجبوری کی حالت میں گھر سے باہر نکلنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ کام پر نہیں جائیں گے تو گھر کے چولھے ٹھنڈے ہوجائیں گے۔
سول حکام کی جانب سے لاک ڈاوٴن کی خلاف ورزی کرنے پر متعدد دکانیں اور ہوٹل بھی سیل کردیے گئے ہیں، تاہم صرف کھانے پینے کی اشیا کی دکانیں اور میڈیکل اسٹورز کھلے ہیں۔
متحدہ علماء بورڈ نے عوام سے شب معراج کے موقع پر انفرادی عبادات کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ اس وبا سے نجات کیلئے استغفار ، درود شریف ، آیت کریمہ کا ورد کریں، جبکہ گھروں میں قرآن کریم کی تلاوت اور ذکر و اذکار کا اہتمام کیا جائے۔
کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ریلوے اسٹیشنوں، اسپتالوں اور بس اڈوں پر میونسپل عملے کی جانب سے اسپرے بھی کیا جارہا ہے۔
سندھ میں لاک ڈاؤن کی تیاری مکمل ہے جس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے 14 روز کے لئے کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ آج اس بندش کی تفصیلات سےآگاہ کرینگے۔
کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر کل 23 مارچ کو ایوان صدر اور گورنرز ہاوٴسز میں یوم پاکستان کے موقع پر قومی اعزازات کی تقریب منسوخ کردی گئی ہے۔ یہ تقریب صورتحال بہتر ہونے پر منعقد کی جائے گی۔
ادھر بلوچستان کے علاقے چمن میں پاک افغان سرحد آج 21ویں روز بھی بند ہے اور باب دوستی سے ہر طرح کی دو طرفہ آمدو رفت معطل ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں دفعہ144کانفاذ ہے اور شہر کی سڑکیں اور مارکیٹیں ویران ہیں۔
بلوچستان اور پنجاب حکومت نے پاک فوج کی مدد طلب کر لی ہے اور آرٹیکل 245کے تحت پاک فوج کو سول اختیارات دینے کیلئے خط لکھ دیا ہے۔