کراچی،ملک بھر میں جمعہ کے اجتماعات پر "پابندی"، عوام الناس نے "اپنے گھروں "میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی
کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر حکومت نے ایک اوربڑا فیصلہ کرتے ہوئے 5 اپریل تک مساجد میں نماز اور جمعہ کے اجتماعات پر "پابندی "لگادی جس کا"نوٹی فکیشن "بھی جاری کردیا گیا۔
صوبائی وزیراطلاعات ناصرحسین شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ میں کورونا وائرس کی روک تھام کے پیش نظر مساجد میں صرف 3سے 5 افراد نماز اورجمعہ ادا کرسکیں گے، مساجد میں نماز جمعہ کے "اجتماعات "نہیں ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مسجدوں میں نماز کے اجتماعات پر "پابندی "کا فیصلہ تمام مکاتب فکر کے علما کی "مشاورت "سے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے کورونا وائرس کی رو ک تھام کی احتیاطی تدابیر کے تناظر میں نماز جمعہ کی ادائیگی کا ایڈوائزری نوٹی فیکشن جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق تمام جامع مساجد نماز جمعہ کے لئے کھلی رہیں گی، مساجد میں نماز جمعہ کے تمام مناسک کی ادائیگی معمول کے مطابق ہوگی، نماز جمعہ کی جماعت میں مسجد کے پیش امام کے علاوہ 3 سے 5 افراد جن میں موزن، کیئرٹیکر اور خادم شامل ہیں جب کہ عوام الناس اپنے گھروں میں نماز جمعہ کی ادائیگی کریں گے۔
نماز جمعہ اور اجتماع پر پابندی کے حکومتی فیصلے پر پیش امام اخلاص یونس قادری کا کہنا تھا کہ گورنر ہاؤس میں تمام علماء نے متفقہ فیصلہ دیا تھا کہ 50 سال سے زیادہ عمر والے حضرات اور بچے مساجد میں نہ جائیں اگر اس فیصلے پر عمل ہوجاتا تو بہتر تھا لیکن نماز جمعہ اور اجتماعات پر پابندی لگانا مناسب نہیں ہے کیونکہ جمعہ کا دن مسلمانوں کیلئے عید کا دن ہوتا ہے۔