Apr 01, 2020 03:15 pm
views : 229
Location : different areas
Karachi- People rejects social distance
کراچی،سماجی فاصلےکیلئے دائرے بنائے جانے کے باوجود پاسداری نہ کی جاسکی،عوام میں شعور کی کمی، بھیڑ میں سامان کی خریداری کی گئی
حکومتی ہدایات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے دکانداروں نے سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کیلئے دکانوں کے باہر شہریوں کیلئے دائرے بنادیئے تاہم شہریوں کی جانب سے اسے خاطر میں نہ لایا گیا اور سماجی فاصلے کیلئے بنائے گئے دائروں کو اپنے پیروں تلے روندھ کر رکھ دیا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی کے باوجود سماجی فاصلے کی پاسداری نہیں کی جارہی۔
اس حوالے سے ایک شہری محمد آصف کا کہنا تھا کہ عوام کو چاہئے کہ فاصلے سے کھڑے ہوں اور حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور احتیاط کریں تاکہ وائرس سے بچا جاسکے۔ عوام کے پاس راشن ختم ہوگیا ہے لوگ راشن لینے کیلئے نکلیں ہیں ۔ بدقسمتی سے دکانوں پر راشن بھی نہیں مل رہا اور مل بھی رہا ہے تو بہت مہنگا ہے جو دالیں 70 روپے فی کلو ملتی تھیں اب دو سو روپے فی کلو مل رہی ہیں آٹا 60 روپے فی کلو ہوگیا ہے۔ عوام پریشان ہیں ۔
ایک اور شہری محمد شاکر کا کہنا تھا کہ عوام مضطرب ہے اور بے یقینی کی کیفیت سے دوچار ہے کہ نہ جانے کب کرفیو لگ جائے۔ عوام کو حکومت کی طرف سے کوئی سہولت مل جائے تو وہ پریشان نہیں ہوگی۔یقینا دائرے ہماری سہولت کیلئے بنائے گئے ہیں تاکہ ہمیں بیماری نہ لگے لیکن پبلک میں شعور ہی نہیں ہے۔
ایک اور شہری ثاقب لودھی کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے عوام میں شعور نہیں ہے ادارے بھی کام کررہے ہیں حکومت بھی بھرپور طریقے سے کام کررہی ہے- میرے خیال میں کورونا کا سب سے بڑا علاج سماجی فاصلہ ہی ہے۔ لوگ ضروریات زندگی کا اتنا سامان خریدیں جتنا انہیں ضرورت ہو ذخیرہ اندوزی سے دوسرے لوگ پریشان ہوجاتے ہیں۔