Apr 11, 2020 05:54 pm
views : 245
Location : Domestic Place
Karachi- lockdown reduces blood donation trend, rises lives of Thalesima victims
کراچی، لاک ڈاؤن کے باعث خون عطیہ کرنے کے رجحان میں کمی،تھیلیسیما کے شکار بچوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوگئے
حسرت ،امید اور انتظار، تھیلیسمیا میجر کے مریض یہی آس لئے خون کے عطیات دینے والوں کے منتظر ہیں تاہم کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاون نے خون کے مرض میں مبتلا بچوں اور بڑوں سب ہی کی تکلیف میں دُگنا اضافہ کردیا ہے۔
تھیلیسیمیا کے شکار ایک بچے کے والد محمد فاروق کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ہمیں بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑا تھا، کہیں سے بھی خون کا انتظام نہیں ہورہا تھا لیکن ہم اس تھیلیسیما سینٹر کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے لاک ڈاؤن کے باوجود ہمیں خون کا بندوبست کرکے دیا جس کے نتیجے میں میرے بچے کی جانچ بچ گئی۔
تھیلیسیمیا کے ننے بچے ہر ماہ میں دو مرتبہ خون کیلئے آتے ہیں۔ خون کی کمی کے باعث بچوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو گئے۔
تھیلیسمیا سینٹرکی ڈائریکٹر ڈاکٹر معیسہ شکیل نے بتایا کہ خون کے عطیات میں واضح کمی آئی ہے، تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے خون کی کمی واقع ہورہی ہے، سب سے گزارش یہی ہے کہ لاک ڈاؤن کے باوجود بلڈ ڈونیشن کی سپلائی کو بحال رکھیں تاکہ ان بچوں کی جانوں کو بچایا جاسکے۔یہ بہت خطرناک چیز ہے۔ بچوں کی اموات کے چانسز بڑھ سکتے ہیں۔
لاک ڈاون کی وجہ سے خون دینے والوں کی تعداد کافی کم ہے۔ بچوں کیلئے خون کا اسٹاک بھی کافی حد تک کم ہو گیا ہے۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہے ۔کینیڈا میں بھی بہت سے لوگ اس مشکل کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمدی فاؤنڈیشن مہدی رضوی کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں رضاکارانہ خون دینے کا رجحان ویسے ہی بہت کم ہے، یہ حقیقت ہے جس کا سامنا کرنا پڑے گا، الحمدو اللہ ہمارے پاس ساڑھے آٹھ ہزار رجسٹرڈ ڈونرز ہیں اور ہم لاک ڈاؤن کے باوجود رضاکارانہ طور پر لوگوں کے گھر تک خون کا عطیہ لینے کیلئے پہنچے۔
ایسے عالم میں نوجوان اگراپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں تو اس مشکل گھڑی سے نمٹا جاسکتا ہے۔