Apr 13, 2020 04:38 pm
views : 248
Location : different areas
Karachi- Security Guards faces problems due to Lockdown
کراچی،شہر قائد میں لاک ڈاؤن کے باوجود بارہ بارہ گھنٹوں تک ڈیوٹی سرانجام دینے والے سیکیورٹی گارڈز اشیائے ضرورت کیلئے پریشان
شہر قائد میں ہر طبقے کے لوگ گھروں میں "محصور "ہیں اور اپنی ضروریات زندگی کے "حصول "کیلئے "پریشان "بھی ہیں انہی میں ایک بہت بڑی تعداد ہمارے واچ مین کی بھی ہے جہیں ہم "سیکیورٹی گارڈ "بھی کہتے ہیں۔ یہ سیکیورٹی گارڈز جو ہمارے گھروں ، دکانوں، بینکس اور دیگر اہم مقامات پر "حفاظت "کرتے ہیں کورونا وائرس کی وجہ سے "اپنی ضروریات زندگی" حاصل کرنے میں بری طرح "ناکام "ہیں۔ جس کی ایک بڑی وجہ ان کی ڈیوٹی ٹائمنگز ہیں۔ سیکیورٹی گارڈ کی بڑی تعداد رات کو "ڈیوٹی "کرتی ہے جو فجر کے بعد جاکر "سوجاتے "ہیں اور جب صبح اٹھتے ہیں تو "لاک ڈاؤن شروع "ہوجاتا ہے اس ہی طرح دن کی ڈیوٹی کرنے والے گارڈز لاک ڈاؤن کے وقت تک ڈیوٹی پر ہوتے ہیں لہذا انہیں خود اپنے گھروں کیلئے ضروریات زندگی کا "سامان لانے کا وقت "نہیں ملتا۔
کراچی میں سیکیورٹی گارڈ جو بارہ بارہ گھنٹے ڈیوٹی کرتے ہیں ان میں سب سے بیشتر کی عمر 60 سے 70 سال کے درمیان بھی ہیں اور بہت سارے ریٹارئرڈ فوجی بھی بڑی عمر کے گارڈ کے لیے کورونا وائرس ویسے ہی بہت خطرناک ہے۔
ایک گارڈ شہزاد جس کی عمر چالیس سال ہے اور تین سال سے ملازمت کررہا ہے نے بتایا کہ کورونا وائرس کا "خوف "تو ہے لیکن اپنے بچوں کو روٹی کھلانے کی "فکر "بھی ہے۔ ہم "مجبوری "کی وجہ سے یہاں کام کررہے ہیں۔ کمپنی کی جانب سے کوئی "حفاظتی سامان "تک مہیا نہیں کیا گیا۔
ایک اور سیکیورٹی گارڈ 32 سالہ محمد راشد نے بتایا ڈیوٹی نہ کی تو بچوں کا پیٹ "کیسے "پالیں گے۔ حکومت غریبوں کو کھانے کی "سہولت "فراہم کرے، ڈیوٹی کے دوران بہت "دشواری "کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔