Jun 25, 2024 10:13 pm
views : 361
Location : Domestic Place
Islamabad- Govt to develop consensus on ‘Azm-e-Istehkam’: Khawaja Asif
div class="field-data" align="right" style="display: block;">
آپریشن عزم استحکام
کے سیاسی عزائم نہیں، چند دنوں میں طریقہ کار واضح ہو جائے گا، وزیر دفاع
خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ عزم استحکام آپریشن کی زیادہ تر کارروائیاں کے پی
اور بلوچستان میں ہوں گی ، وزیراعظم آفس کا کہنا ہے کہ عزم استحکام کو
غلط سمجھا جا رہا ہے، سابقہ آپریشنز سے موازنہ نہ کیا جائے
وزیر دفاع خواجہ آصف
نے واضح کیا ہے کہ عزم استحکام آپریشن کی زیادہ تر کارروائیاں کے پی اور
بلوچستان میں ہوں گی جس کا مقصد دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنا ہے۔
خواجہ
آصف نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کو معافیاں دینے
کا نقصان ہوا ہے، عسکری قیادت کے مطابق دہشتگردوں کو معافی دینے کا فیصلہ
سول قیادت نے کیا تھا، اس معاملے پر عام بحث ہوگی اور اتفاق رائے پیدا کیا
جائے گا۔
پارٹی سیکریٹریٹ ماڈل ٹاؤن لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ یہ آپریشن پچھلے آپریشنز سے تھوڑا مختلف
ہے، اس آپریشن کا آغاز دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں سے شروع ہوگا۔ اس
آپریشن کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد چند ماہ سے بڑھتی دہشت
گردی کی لہر کو ختم کرنا ہے لہٰذا اس آپریشن میں سب کو سپورٹ کرنا چاہیے۔
انہوں
نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان جب مرتب کیا گیا تھا اس وقت ملک کے مختلف
علاقے دہشت گردوں کے قبضے میں تھے، اب کچھ علاقے ایسے ہیں جن میں تحریک
طالبان کے دہشت گرد کاروائیاں کرتے ہیں لیکن پہلے والی صورتحال بہرحال نہیں
ہے۔ ضیا الحق اور مشرف کی حکومت کی دو جنگیں ہم نے امریکا کے مفاد کے لیے
لڑیں، یہ آپریشن چین یا کسی کے کہنے پر نہیں کر رہے بلکہ اپنی مرضی سے کر
رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کی جانب سے عزم استحکام
آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس میں تمام وزرائے اعلیٰ موخود تھے اور
کسی نے مخالفت نہیں کی، مٹینگ میں چیف منسٹر کے پی موجود تھے کوئی اختلاف
نہیں کیا۔ آج اس کو اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور بھرپور بحث کی جائے گی،
اپوزیشن کے اس آپریشن سے متعلق تمام خدشات دور کیے جائیں گے لہٰذا اس
آپریشن کو تمام ارباب اختیار کو سپورٹ کرنا چاہیے۔
وزیر دفاع نے واضح
کیا کہ اس کمیٹی میں وزیر اعظم، چاروں وزیر اعلیٰ اور آرمی چیف سمیت دیگر
موجود تھے لیکن کسی نے مخالفت نہیں کی۔ آج یہ کابینہ اجلاس میں آیا اور اس
میں اتحادی جماعتوں کے سوالات کے جوابات دیے جائیں گے۔
دوسری جانب
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کے پائیدار امن و استحکام کے لیے حال ہی میں
اعلان کردہ وژن جس کا نام عزم استحکام رکھا گیا ہے، کو غلط سمجھا جا رہا
ہے اور اس کا موازنہ گزشتہ مسلح آپریشنز جیسے ضرب عضب، راہ نجات وغیرہ سے
کیا جا رہا ہے۔ کسی بڑے آپریشن پر غور نہیں کیا جارہا، یہ جاری آپریشن کو
آگے بڑھانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بڑے پیمانے پر کسی ایسے فوجی آپریشن پر غور نہیں کیا جا رہا ہے جہاں آبادی کی نقل مکانی کی ضرورت ہو گی۔