مخصوص نشستوں کا کیس:
پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ
الیکشن کمیشن نے ایک سیاسی جماعت کو باہر کیا جو اہم سوال ہے ، مخصوص
نشستوں سے متعلق کیس کی مزید سماعت 9 جولائی تک ملتوی
سپریم کورٹ میں سنی
اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی
فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے
دیں، سپریم کورٹ کے فیصلے انصاف پر مبنی ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی
فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 13 رکنی فل کورٹ بنچ نے کیس کی
سماعت کی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیئے۔
سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی مزید سماعت 9 جولائی تک ملتوی کر دی۔
چیف
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت انصاف کے تقاضوں کا نہیں آئین اور
قانون کا اطلاق کرتی ہے؟ نظریہ ضرورت کے تمام فیصلوں میں انصاف کے تقاضوں
کا ہی ذکر ہے، جب کچھ ٹھوس مواد نہ ملے تو انصاف کی اپنی مرضی کی تشریح کی
جاتی ہے، کسی جج سے بدنیتی منسوب نہیں کر رہا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے
ریمارکس دیئے کہ عدالت آئین کی سنگین خلاف ورزی کی توثیق کر دے؟ کیا کمرے
میں موجود ہاتھی کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ ایک آئینی ادارے نے غیر
آئینی تشریح کی اور سپریم کورٹ توثیق کرے؟
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ
یہ ثابت ہو چکا ہے کہ الیکشن کمیشن نے عدالتی فیصلے کی غلط تشریح کی، کیا
آئینی ادارے کی جانب سے غیر آئینی تشریح کی عدالت توثیق کر دے؟ کیا آپ
چاہتے ہیں کہ ہم نظریۂ ضرورت کو دوبارہ زندہ کر دیں؟
سپریم کورٹ آف
پاکستان نے گزشتہ روز کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن سے فارمولا اور
دستاویزات طلب کی تھیں کہ 2018ء اور 2024ء میں مخصوص نشستیں کیسے الاٹ
ہوئیں؟ پی ٹی آئی نے بھی کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔